بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مجلسِ نکاح میں عاقدین یا ان کے وکلاء کا موجود ہونا ضروری ہے

سوال

میرا نکاح ایک لڑکے سے اس طرح ہوا تھا کہ میں کراچی میں تھی، لڑکا دبئی میں تھا اور نکاح خواں اور گواہ اسلام آباد میں تھے ۔

کیا  اس طرح نکاح ہوجاتا ہے؟ نیز یہ کہ ہمارے نکاح کو دو سال ہوچکے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مجلسِ نکاح میں لڑکے اور لڑکی کے وکیل موجود نہیں تھے تو نکاح درست نہیں ہوا تھا، دوبارہ نکاح کرنا لازم ہے۔ اگر نکاح کے بعد دونوں ساتھ رہے تو صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202256
تاریخ04-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں