بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساس سسر کی خدمت کرنا

سوال

شوہر کی موجودگی میں بیوی ساس سسر کی خدمت کرے تو یہ اس کی نیکی ہے، اور اگر شوہر چالیس دن یا چار ماہ کے لیے جماعت میں چلا جائے تو  شوہر کی غیر موجودگی میں ساس سسر کی خدمت کرنا کیا گناہ ہے؟

جواب

شوہر کی غیر موجودگی میں ساس سسر کی خدمت ایسی نیکی ہے جس پر بیوی کو مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202244
تاریخ04-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں