بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی جانب سے دھلے یونیفارم کی پاکی میں شک

سوال

ہماری کمپنی ہم کو کام کرنے کے لیے یونیفارم دیتی ہے، یہ یونیفارم کمپنی ہی دھو کر استری کر کے ہم کو واپس دیتی ہے ،کیا اس یونیفارم میں نماز پڑھنا درست ہوگا ؟جب کہ ہماری کمپنی میں ہندو  ،سکھ، عیسائی ،مسلمان وغیرہ سب مل کر کام کرتے ہیں تو سب کا یونیفارم بھی دھلتا ہے ، یونیفارم دھونے والے کیسے دھوتے ہیں یہ ہم کو نہیں معلوم ؟

جواب

کمپنی جو یونیفارم دھو کر دیتی ہے وہ پاک ہے، اس میں نماز پڑھنا درست ہے،  بغیر کسی دلیل کے شک کرنا درست نہیں، اگر شک کی کوئی دلیل ہے تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کیجیے، لیکن محض شک کا کوئی اعتبار نہیں۔

واضح رہے کہ دھوبی سے کپڑے دھلوانا صحیح ہے، خواہ پاک کپڑے دھلوائے جائیں خواہ ناپاک، عموماً دھوبی پانی کی اتنی مقدار استعمال کرتے ہیں جس سے ناپاک کپڑے پاک ہوجاتے ہیں۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (1 / 346)

"لأن اليقين لا يزول بالشك"۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202240
تاریخ04-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں