بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یوم عرفہ پاکستان میں کس دن ہوگا؟

سوال

جو لوگ سعودی عرب کے ساتھ بقر عید مناتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یومِ عرفہ پوری دنیا کا ایک ہے،جب کہ  ہم  پاکستانی عوام حکومتِ وقت کے ساتھ بقرعید مناتے ہیں ،سعودی عرب کے عید کے دن پاکستان میں یومِ عرفہ ہوتاہے،وہاں یومِ عرفہ ایک دن پاکستان سے پہلے ہوتا ہے، اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا عرفہ درست نہیں ہے ،قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

 عرفہ کے دن کی فضیلت  جو احادیث میں وارد ہے وہ ہر شخص کو اس کے ملک کے وقت اور تاریخ کے حساب سے حاصل ہوگی، جس طرح باقی عبادا ت اور دیگر چیزوں میں اپنے ملک کے وقت اور تاریخ کا اعتبار ہوتا ہے، جیسے نمازوں  کے اوقات،سحر وافطار کے اوقات میں اسی ملک کا اعتبار ہوتا ہے جہاں انسان موجود ہو۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (4/ 78)

"وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ؛ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ مُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ، وَانْفِصَالُ الْهِلَالِ عَنْ شُعَاعِ الشَّمْسِ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأَقْطَارِ، كَمَا أَنَّ دُخُولَ الْوَقْتِ وَخُرُوجَهُ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الْأَقْطَارِ، حَتَّى إذَا زَالَتْ الشَّمْسُ فِي الْمَشْرِقِ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ أَنْ تَزُولَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَذَا طُلُوعُ الْفَجْرِ وَغُرُوبُ الشَّمْسِ، بَلْ كُلَّمَا تَحَرَّكَتْ الشَّمْسُ دَرَجَةً فَتِلْكَ طُلُوعُ فَجْرٍ لِقَوْمٍ وَطُلُوعُ شَمْسٍ لِآخَرَيْنِ وَغُرُوبُ لِبَعْضٍ وَنِصْفُ لَيْلٍ لِغَيْرِهِمْ، وَرُوِيَ أَنَّ أَبَا مُوسَى الضَّرِيرَ الْفَقِيهَ صَاحِبَ الْمُخْتَصَرِ قَدِمَ الْإِسْكَنْدَرِيَّة، فَسُئِلَ عَمَّنْ صَعِدَ عَلَى مَنَارَةِ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَيَرَى الشَّمْسَ بِزَمَانٍ طَوِيلٍ بَعْدَمَا غَرَبَتْ عِنْدَهُمْ فِي الْبَلَدِ أَيَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفْطِرَ؟ فَقَالَ: لَا، وَيَحِلُّ لِأَهْلِ الْبَلَدِ؛ لِأَنَّ كُلًّا مُخَاطَبٌ بِمَا عِنْدَه". فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل پر جامعہ کی ویب سائٹ  پر فتوی نمبر :   143909201956   درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%DB%81%D9%88%D9%85-%D8%B9%D8%B1%D9%81%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D8%B1-%D9%85%D9%84%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D9%88-%D8%B0%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AC%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92/17-08-2018

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202234
تاریخ04-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں