بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی سے متعلق ایک سوال کا جواب

سوال

ایک صاحب نے فون کر کے اپنا حصہ کروایا اور کہا کہ جس دن اپنا حصہ لینے آؤں گا تو پیسے بھی دے دوں گا اور اپنا نام اور فون نمبر بھی لکھا دیا، مگر وہ آدمی اپنا حصہ لینے نہیں آیا تو اب کیا حکم ہے؟ پیسے کون بھرے گا؟ اور بقیہ افراد کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صاحب نے جب فون کر کے قربانی کے جانور میں  ایک حصہ رکھوایا تو ان کی حیثیت موکل کی ہے اور جس نے سارا بندوبست کیا اس کی حیثیت وکیل کی ہے اور فون پر وکیل بنانا درست ہوا  اور  وہ اس قربانی کے پیسوں کے مقروض ٹھہرے،  پھر جب یہ قربانی کی گئی تو یہ قربانی موکل ہی کی طرف سے ادا ہوئی اور باقی لوگوں کی قربانی بھی درست ہو گئی،  اب یہ پیسے اُن ہی سے وصول کیے جائیں گے، اور ان ہی سے اس کا مطالبہ کیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202231
تاریخ04-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں