بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی قانون میراث کو چھوڑ کر عائلی قانون کے تحت عمل کرنا

سوال

اگر کوئی شخص شرعی قانونِ میراث کو چھوڑ کر عائلی قانون کے تحت اپنے دادا کی موروثی زمین اپنے نام کروالے تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کا اسلام سلامت رہتا ہے؟

جواب

عائلی قوانین کی شق جس میں کہ دادا کی میراث چچا کے ہوتے ہوئے بھی  پوتے کو دی جاتی  ہے ، یہ شق اسلام کے خلاف ہے، لہذا اس قانون کے تحت اگر کوئی دادا کی زمین حاصل کرلے اور اصل شرعی مستحقین کو نہ دے تو یہ اس کی طرف سے ظلم  ہے اورزمین اس کے لیے حرام ہے اور شریعت کے مطابق جو وارث ہوں ان کو زمین سپرد کرنا لازم اور فرض ہے۔مگر اس طرح کے ناجائز عمل کے مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہاجاسکتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202207
تاریخ03-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں