بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیدھے ہاتھ پر تکیہ رکھنا

سوال

کیا سیدھے ہاتھ پر تکیہ رکھنا سنت ہے سوتے وقت؟ مدلل جواب دیں!

جواب

اگر آپ کا مقصد دائیں کروٹ پر سونے سے متعلق سوال کرنا ہے تو  دائیں کروٹ پر ، دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر   سونا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت آرام (نیند) فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے ( منہ کعبۃ اللہ  کی طرف فرمالیتے) داہنی کروٹ کو اختیار فرماتے اورزبانِ مبارک سے یوں دعا پڑھا کرتے: ”رَبِّ قِنِيْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ“․ ( اے اللہ قیامت کے دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھیے) 

دائیں کر وٹ پر لیٹنا سنت ہے،  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو اپناسیدھا ہاتھ مبارک سیدھے رخسار شریف کے نیچے رکھ کر لیٹتے۔ ( شمائل الترمذی ،کتاب الشمائل ،باب ماجاء فی صفۃ نوم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ ، ا لحد یث ۳ ۵ ۲ ، ج ۵ ، ص ۵۴۹)

اور اگر سوال کا منشا یہ ہے کہ  سوتے وقت دائیں طرف ایک تکیہ اضافی رکھ لینا تو ایسی کوئی چیز سنت اور سیرت کی کتابوں میں نہیں ملی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202201
تاریخ03-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں