بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے دوران ریکارڈنگ کرنا

سوال

نکاح کے دوران مسلمان مرد گواہان کی موجودگی میں دولہا دلہن  ایجاب و قبول کرے،  تب  دولہا ویڈیو  ریکارڈنگ کرے یا آواز ریکارڈ کرے، تو ایسا کرنے سے کوئی خرابی نہیں آتی؟

جواب

نکاح کے با برکت وقت  تصویر سازی کرنا یا ویڈیو بنانا بالخصوص مسجد میں  بہت برا اور  ناجائز ہے۔

نکاح کے ثبوت  کے لیے  گواہ کافی ہیں،  ویڈیو ریکارڈنگ، یا آواز ریکارڈ کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔البتہ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس  سے نکاح پر اثر نہ پڑے گا۔ 

"شاہدین حرین الخ ، مکلفین الخ ، مسلمین لنکاح مسلمۃ ". ( الدر المختار ۳ ؍ ۷۳ -۷۵) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202197
تاریخ03-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں