بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینک کے تمویلی طریقے

سوال

میزان بینک کے گھر کی تمویل کے سلسلے میں کون سے طریقے جائز ہیں؟ مشارکہ یا اجارہ کے ذریعے؟

جواب

جمہور علماء  کی تحقیق کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں میں تمویل کے لیے اختیار کیے جانے والے مذکورہ طریقے یعنی اجارہ فائنانسنگ یامشارکہ فائنانسنگ دونوں ہی شرعاً درست نہیں ہیں۔اس لیے  کہ ان مٰیں کئی فقہی خرابیاں پائی جاتی ہیں ، من جملہ ان کے یہ ہے کہ یہ دراصل ایک سے زائد عقد کا مجموعہ ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں ایک سے زیادہ عقود کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؛ لہٰذا  ان طریقوں کو اختیار کرنے کے بجائے  کسی اور جائز طریقے سے گھر خریدا جائے۔

"عن أبي هریرة قال : ’’ نهی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم عن بیعتین في بیعة. ‘‘ ترمذی". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202190
تاریخ02-09-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں