بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غریب بہن کو زکاۃ دینا

سوال

کیا اپنی غریب بہن کو زکاۃ دی جاسکتی ہے ؟

جواب

جی! بہن اگر مستحقِ زکاۃ ہو (یعنی اس کے پاس اتنا زیور یاضرورت سے زائد مال یا سامان موجود نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابرہو، اور وہ سید/ ہاشمی نہ ہو) تو  اس کو زکاۃ دینا شرعاً جائز ہے ،بلکہ حد یث مبارک کی رو سے اس میں دو اجر ہیں: ایک ادائے فریضہ کا، دوسر ا صلہ رحمی کا۔  البتہ اگر بہن زیرِ کفالت ہے تو واجب نفقہ زکات سے دیناجائز نہیں ہوگا، واجب نفقہ سے زائد رقم یا کوئی چیز  اگر بہن کو زکات میں دے تو اسے مالک بناکر دیتے وقت بتادے کہ اسے مشترکہ خرچ میں شامل نہ کرے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202140
تاریخ31-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں