بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بنت العم اور خال کے درمیان تقسیمِ میراث

سوال

اگر کسی میت کی صرف بنت العم اور خال رہ گئے ہوں  تو تقسیم میراث کیسے ہوگی؟

جواب

اگر  کسی  میت  کے  ورثا  میں صرف چچا کی بیٹی اور ماموں ہو تو چچا کی بیٹی کو دو تہائی اور ماموں کو ایک تہائی ملے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 795):

"وإن اختلف حيز قرابتهم بأن كان قرابة بعضهم من جهة الأب وبعضهم من جهة الأم، فلقرابة الأب الثلثان ولقرابة الأم الثلث، ولايقدم الأقوى في جهة على غيره في جهة أخرى".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 796):

" ثم اعلم أنه لايعتبر بين الفريقين قوة القرابة فلايرجح ولد العمة لأبوين على ولد الخال أو الخالة، وكذا لايعتبر ولد العصبة فلاترجح بنت العم لأبوين على بنت الخال أو الخالة وإنما يعتبر ذلك في كل فريق بخصوصه". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202132
تاریخ30-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں