بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ سفر میں قصر و اِتمام کا حکم اور اہلِ بدعت کی اقتدا کا حکم

سوال

(1)میں نوری آباد ایک کمپنی میں آڈٹ کے سلسلے میں آیا ہوں ایک ہفتہ کے لیے ، میرے گھر سے اس کمپنی تک  100 کلو میٹر کی مسافت ہے، پوچھنا یہ ہیکہ اس صورت میں مجھے قصر کرنی پڑے گی؟

(2)اور دوسری بات یہ کہ قریب کی مسجد اہل رسومات کی ہے، میں​ جماعت کے بغیر نماز پڑھ سکتا ہوں یا اہل رسومات امام کے پیچھے؟ 

جواب

(1)  کراچی کی جس جانب سے آپ شہر سے نکلیں گے، اُس جانب سے کراچی کی آبادی کے اختتام سے لے کر نوری آباد تک کی مسافت اگر 48 میل (77.24 کلو میٹر) ہے تو آپ شرعی مسافر ہوں گے، اور  چار رکعات والی فرض نماز قصر کریں گے، اگر دونوں آبادیوں کے درمیان فاصلہ 48 میل سے کم ہو تو آپ شرعی مسافر نہیں ہوں گے، اس صورت میں نماز مکمل ادا کرنی ہوگی۔

(2)اگر قریب میں صحیح العقیدہ امام کی مسجد نہیں تو  بدعتی امام کی اقتدا  میں نماز ادا کرنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ البتہ اگر  معلوم ہو کہ امام کا عقیدہ شرکیہ  ہے تو اس کی اقتدا میں  نماز ادا کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202101
تاریخ28-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں