بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل دیے بغیر جنازہ کی نماز پڑھ لی گئی، نیز نماز جنازہ کی وصیت اور قبر میں مال رہ جائے

سوال

١-اگر کسی کی نمازِ جنازہ غسل سے پہلے پڑھ لی جاۓ تو کیا کیا جاۓ ؟

٢-نمازِ جنازہ پڑھوانے کی وصیت کی شرعی حیثیت بیان کیجیے؟

٣-نمازِ جنازہ میں عورت کی برابری سے نمازِ جنازہ پر کیا اثر پڑے گا ؟

٤- دفن کرتے وقت قبر میں میں اتارنے والے کا کچھ مال رہ جاۓ اور مٹی وغیرہ ڈالنے کے بعد یاد آۓ تو کیا کرے ؟

جواب

1۔اس صورت میں اگرمیت کو  اب تک دفنایا نہیں ہے تو غسل دے کر دوبارہ نماز پڑھی جائے گی، اور اگر دفنا دیا ہے تو قبر پر دوبارہ نماز پڑھی جائے گی بشرطیکہ میت کے قبر میں پھٹنے کا غالب گمان نہ ہو ۔

حاشية رد المختار على الدر المختار (2/ 224):
"والصحيح أنه لا يصلى على قبره في هذه الحالة؛ لأنها بلا غسل غير مشروعة، كذا في غاية البيان، لكن في السراج وغيره: قيل: لا يصلى على قبره، وقال الكرخي: يصلى، وهو الاستحسان؛ لأن الأولى لم يعتد بها؛ لترك الشرط مع الإمكان، والآن زال الإمكان، فسقطت فرضية الغسل، وهذا يقتضي ترجيح الإطلاق، وهو الأولى".

2۔ اس وصیت کو پورا کرنا ورثاء کے ذمہ لازم نہیں ہے۔

عالمگیری جلد اول ص : 163 میں ہے :

"وفي الکبری: المیت إذا أوصی بأن یصلی علیه فلان، فالوصیة باطلة، و علیه الفتوی، کذا في المضمرات".

3. نماز جنازہ میں بھی  مردوں اور عورتوں کا ساتھ  کھڑا  ہونا درست نہیں، البتہ اگر نماز جنازہ میں  اتفاقاً عورت کی محاذات ہو جائے تو نماز پر اثر نہیں پڑے گا ،نماز ہو جائے گی۔

4۔اس صورت میں قبر کو کھود کر مال نکالنا جائز ہے۔

حاشية رد المختار على الدر المختار (2/ 238):
"كما إذا سقط في القبر متاع أو كفن بثوب مغصوب أو دفن معه مال، قالوا: ولو كان المال درهماً".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202044
تاریخ24-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں