بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چرمِ قربانی سے کپڑوں پر لگنے والے خون کا حکم

سوال

چرم قربانی میں جو حضرات کھالیں اٹھاتے ہیں اس کا خون لازماً  کپڑوں پر لگتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  جو خون جانور میں سے ذبح کے وقت بہتے ہوئے نکلتا ہے وہ "دمِ مسفوح" کہلاتا ہے اور وہ ناپاک ہوتا ہے، اور کھال پر جو خون لگا ہوتا ہے وہ عام طور پر وہی دمِ مسفوح ہوتا ہے؛ لہذا اگر کسی کے کپڑوں پر کھال اٹھاتے وقت خون لگ جائے تو وہ ناپاک ہی ہو گا اور اگر اس کی مقدار ایک درہم سے زائد ہو تو اس میں نماز ادا کرنا بھی درست نہ ہو گا۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 189)

"وفي «عيون المسائل» : الدم الملتزق باللحم إن كان ملتزقاً من الدم السائل بعدما سال كان نجساً، وإن لم يكن ملتزقاً من الدم السائل لم يكن نجساً"۔

"کبیری" میں ہے:

"ما لزق من الدم السائل باللحم فهو نجس، وما بقي في اللحم والعروق من الدم الغیر السائل فلیس بنجس".  (ص:195، فصل في الآسار، سهیل أکادمي) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202033
تاریخ23-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں