بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حائضہ کے لیے قرآنی وظائف پڑھنے کا حکم

سوال

عورت کے لیے حیض کے ایام میں قرآن کی وہ آتیں جن میں دعا کا معنی ہو پڑھنا جائز  ہے، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کی وہ آتیں جس میں دعا کا معنی نہ ہو، لیکن بزرگوں نے مجرب بتایاہو  جیسے سورہ قلم کی آخری آیت کیا ایسی آیات بھی پڑھنا جائز ہے؟

جواب

فقہاء نے حائضہ کے احکام بیان فرماتے  ہوئے جہاں یہ لکھا ہے کہ حائضہ قرآن مجید کی وہ آیتیں پڑھ سکتی ہے جس میں دعا کا معنیٰ ہو  وہاں اس بات کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ قرآن پاک کی جن آیات میں دعا کا معنیٰ نہیں اُن آیات کو غیر قرآن کی نیت سے پڑھنا درست نہ ہو گا، لہذا وہ آیات جن میں دعا کا معنیٰ نہ ہو ان کو بطورِ وظیفہ پڑھنا درست نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 292)
"يمنع ..... (وقراءة قرآن) بقصده"
.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 293)
"(قوله: بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية"
.  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202032
تاریخ23-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں