بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گیارہ ذی الحجہ کو رمی قبل الزوال کرنے کا حکم

سوال

اگر گیارہ ذی الحجہ کو رمی زوال سے پہلے کی جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی شخص نے گیارہ ذی الحجہ کو رمی زوال سے پہلے کر لی تو اس کی وہ رمی درست نہ ہوئی، اس پر لازم ہو گا کہ زوال کے بعد رمی کا اعادہ کرے،  لیکن اگر اعادہ نہ کر سکا تو ایسے شخص پر حدودِ حرم میں دم دینا لازم ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 521)
"(قوله: فمن الزوال لطلوع ذكاء) أي إلى طلوع الشمس من اليوم الرابع، والمراد أنه وقت الجواز في الجملة. قال في اللباب: وقت رمي الجمار الثلاث في اليوم الثاني والثالث من أيام النحر بعد الزوال، فلا يجوز قبله في المشهور. وقيل: يجوز".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202030
تاریخ23-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں