بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دس ذی الحجہ کو قربانی و حلق سے پہلے طواف زیارت کرنے کا حکم

سوال

 مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد منی گیا اور شیطان کو کنکریاں  ماریں، پھر حالتِ احرام میں حلق نہیں کیا تھا، سیدھا حرم شریف جا کے طواف کیا اور سعی کی، یعنی طوافِ زیارت کیا،  اس کے بعد قربانی کی اور حلق کیا اور احرام کھول دیا، اب مجھے کسی نے بتایا ہے کہ آپ پر دم لازم ہے میں کیا کروں؟

جواب

جس شخص نے تمتع یا قران کیا ہو اس کے لیے تین چیزوں میں تو ترتیب واجب ہے، پہلے جمرہٴ عقبہ کی رَمی کرے، پھر قربانی کرے، پھر بال کٹائے۔ اگر اس ترتیب کے خلاف کیا تو دَم لازم ہوگا۔لیکن ان تین چیزوں کے درمیان اور طوافِ زیارت کے درمیان ترتیب واجب نہیں، بلکہ سنت ہے۔ پس ان تین چیزوں سے علی الترتیب فارغ ہوکر طوافِ زیارت کے لیے جانا سنت ہے،  اگر کسی نے ان تین چیزوں سے پہلے طوافِ زیارت کرلیا تو  مکروہ ہے، مگر اس پر دَم لازم نہیں ہوگا۔  "غنیۃ الناسک" میں ہے:

"ولو طاف قبل الرمي والحلق لا شيء علیه ویکره". (ص: 280) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202028
تاریخ22-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں