بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آنکھ پر چوٹ لگے بکرے کی قربانی

سوال

ایک بکرا ہے جس کی آنکھ میں چو ٹ لگ گئی، اس کو دکھائی تو دےرہا ہے، مگر اس میں شبہ ہے کہ کتنا دکھائی دےرہا ہے، کیا اس کی قربانی درست ہے؟  اور یہ بھی بتائیں کہ اس کی روشنی کتنی ہے؟ایک تہائی سے زیادہ ہے یا کم ہے؟ اس کو پرکھیں کیسے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر قربانی کے جانور کی اکثر یعنی ایک تہائی یا اس سے زیادہ بینائی ختم ہو گئی ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر اکثر سے کم بینائی ختم ہوئی ہے تو اس کی قربانی جائز ہے،صورتِ مسئولہ میں اگر بکرے کی آنکھ میں چوٹ لگی ہے اور آنکھ سلامت ہے، لیکن یہ شبہ ہے کہ بینائی میں کمی آئی ہے یا نہیں؟ اگر کمی آئی ہے یاتو کتنی ؟ تو اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بکرے کو ایک یا دو دن چارہ نہ کھلایا جائے، پھر جس  آنکھ پراسے چوٹ لگی ہے اسے باندھ کر گھاس کو دور سے قریب لایا جائے، جس جگہ اس نے گھاس دیکھی اس جگہ نشان لگایا جائے، پھر صحیح آنکھ باندھ کر دور سے گھاس قریب لائی جائے، جس جگہ اس نے گھاس دیکھی وہاں نشان لگایا جائے، پھر دونوں نشانات کے درمیان فرق دیکھا جائے، اگرپہلے نشان سےدوسرےنشان تک کا فاصلہ ایک تہائی سے کم ہے تو اس کی قربانی جائز ہے، لیکن اگر دوسرے نشان سے پہلے نشان تک کا فاصلہ دو تہائی سے زیادہ ہے تو اس بکرے کی قربانی جائز نہیں ہے۔

اگر جدید ذرائع سے بکرے کی بینائی میں کمی بیشی اور اس کی مقدار کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے تو اس ذریعہ کو بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 323):

" (لا) (بالعمياء والعوراء والعجفاء) المهزولة التي لا مخ في عظامها (والعرجاء التي لا تمشي إلى المنسك) أي المذبح، والمريضة البين مرضها (ومقطوع أكثر الأذن أو الذنب أو العين) أي التي ذهب أكثر نور عينها فأطلق القطع على الذهاب.

و في الرد:

"(قوله: وإنما يعرف إلخ) قال في الهداية: ومعرفة المقدار في غير العين متيسرة. وفي العين قالوا: تشد المعيبة بعد أن لا تعتلف الشاة يوما أو يومين ثم يقرب العلف إليها قليلا قليلاً فإذا رأته من موضع أعلم عليه ثم تشد الصحيحة وقرب إليها العلف كذلك فإذا رأته من مكان أعلم عليه ثم ينظر إلى تفاوت ما بينهما، فإن كان ثلثا فالذاهب هو الثلث وإن نصفاً فالنصف اهـ". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202010
تاریخ21-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں