بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی کھالوں کی قیمت کا مصرف

سوال

قربانی کی کھال مدارس کو دینا کیسا ہے؟ اور ان کھالوں کو فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم سے مدرسہ میں مرمتی کام کرانا یا مدرسہ کے بل وغیرہ ادا کرنا یا دیگر مدرسے کی ضروریات وغیرہ میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

جواب

قربانی کی کھالوں کے مصارف میں سے ایک بہترین مصرف دینی مدارس بھی ہیں، مدارس میں قربانی کی کھالیں دینا باعثِ اجر وثواب بھی ہے اور صدقہ جاریہ بھی ہے،نیز آدمی دین کی نشرواشاعت میں بھی حصہ دار بنتاہے۔

قربانی کی کھالوں کو فروخت کرکے ان کی رقم مدرسہ کی تعمیرات یا بل کی ادائیگی وغیرہ میں خرچ کرنا درست نہیں ہے،بلکہ اس قیمت کا مصرف وہی افراد ہیں جو زکاۃ کے مستحق ہیں،لہذا مدرسہ کے مستحق طلبہ کی ضروریات کے علاوہ دیگر مصارف میں کھال کی قیمت خرچ کرنا درست نہیں ہے۔[کفایت المفتی 8/218]فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909202005
تاریخ21-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں