بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ کمائی میں والد اور اولاد پر قربانی کا حکم

سوال

ایک آدمی کاروبار کر رہا ہے خود صاحبِ نصاب ہے، اس کے علاوہ اس کے بیٹے بھی کاروبار کرتے ہیں، اور بیٹے اپنی مرضی سے خرید اور فروخت اور خرچ کر سکتے ہیں، لیکن اختیار پھر سارا ان کے والد کے پاس ہے، یعنی وہ جو مرضی کاروبار یا رقم کے ساتھ کرنا چاہے بیٹوں کو اعتراض نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں سربراہ والد صاحب ہیں.اس صورت حال میں قربانی سب پر واجب ہو گی؟ یا صرف سربراہ پر؟ مہربانی فر ما کر جلد از جلد رہ نمائی کی جائے!

جواب

والد پر صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہے ،اور بیٹوں کے پاس اگرذاتی ملکیت میں اتنی رقم موجود ہے جس کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب بنتے ہوں تو ان پر بھی قربانی واجب ہوگی۔یعنی جس جس بیٹے کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا ضرورت سے زائد سازوسامان موجود ہو تو اس بیٹے پر بھی قربانی واجب ہوگی۔اور اگر بیٹوں کے پاس ذاتی رقم کوئی نہیں ہے، بلکہ سب کچھ کماکر والد کو ہی مالک بناکر انہیں دےدیتے ہیں تو اس صورت میں بیٹوں پر قربانی واجب نہ ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201992
تاریخ20-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں