بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ہر ماہ اس کے والدین کے گھر بھیجنا

سوال

بیوی کو ہر ماہ اس کی ماں کے پاس بھیجنا کیا شوہر پے لازم ہے؟

جواب

شادی کے بعد والدین سے ملنے کے لیے جانا عورت کا حق ہے،  باہمی رضامندی سے اس کے لیے کسی مدت کا تعین کرلیا جائے، جس میں امور خانہ داری بھی متاثر نہ ہو ں اور بیوی کی حق تلفی بھی نہ ہو ، اگر مہینے میں ایک مرتبہ بیوی جانے کا تقاضاکررہی ہے تو یہ اس کا حق ہے شوہر اس حق کو ادا کرے،   بلاوجہ اتنی مدت میں بھی والدین کی زیارت کے لیے نہ بھیجنا اس کی حق تلفی ہے۔ تاہم اگر والدین کے گھر جانے سے فتنے کا اندیشہ ہو  یا شوہر   خدمت کا محتاج ہو اور  بیوی کے جانے سے اسے ضرر لاحق ہو تو بیوی کے والدین کو چاہیے کہ وہ خود بیٹی کو دیکھنے کے لیے آجایا کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201980
تاریخ19-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں