بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دم بریدہ جانور کی قربانی کا حکم

سوال

قربانی کا جانور ہے بھینسا، اس کی دم آدھی سے تھوڑی کم کٹ گئی ہو تو کیا قربانی ہو جائے گی؟

اور میرا سوال نمبر143909200587 جو میں نے رمضان المبارک میں کیا تھا کا جواب آج تک موصول نہیں ہو سکا۔

جواب

اگر جانور کی دم ایک تہائی مقدار(یعنی تیسرے حصہ کے برابر)یااس سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی،اور اگر تیسرے حصہ سے کم کٹی ہو تو قربانی درست ہوگی۔فقط واللہ اعلم 

نوٹ: آپ کے دوسرے سوال کا جواب دیا جاچکاہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201978
تاریخ19-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں