بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں دعا کا طریقہ

سوال

قبرستان میں ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب

عام حالات میں قبرستان جاکرہاتھ اٹھاکےدعاکرناثابت ہے، چناںچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ''جنت البقیع'' میں تشریف لائے اورکافی دیرٹھہرے رہے، پھرتین مرتبہ ہاتھ اٹھا کردعاکی۔ (مسلم شریف۔1-313،کتاب الجنائز،ط: قدیمی)

البتہ قبرستان میں دعامانگنے کی صورت یہ ہونی چاہیے  کہ قبلہ رخ ہوکرہاتھ اٹھائے جائیں اورمیت ومرحومین کے لیے دعاکی جائے، قبرکی طرف رخ کرکےدعانہ کریں  ؛ تاکہ کسی کو فسادِعقیدہ کی بدگمانی نہ ہو، نیز عوام اور ناواقف لوگوں کے عقیدے کے فساد کا ذریعہ بھی نہ بنے۔ البتہ جہاں ایسا احتمال نہ ہو (مثلاً: بالکل تنہا ہو اور اپنا عقیدہ بالکل صحیح ہو) تو کسی بھی رخ پر دعا مانگی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201975
تاریخ19-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں