بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق میں عورت کی طرف نسبت کا مطلب

سوال

طلاق کے مسائل  میں بیوی کی طرف نسبت کرنے سے کیا مراد ہے?

جواب

طلاق کا محل چوں کہ عورت   ہے؛ اس لیے طلاق دیتے وقت شوہر کا بیوی کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے ، جس سے معلوم ہوکہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے رہاہے، خواہ صراحۃً ہو :  جیسے بیوی کو مخاطب کرکے کہے، یا اس کا نام لے یا اس کے والد ، والدہ  کا نام لے کر یوں کہے: فلاں  کی بیٹی، یا کسی اولاد کانام لے کر کہے: فلاں  کی والدہ وغیرہ، یا اس کی طرف اشارہ کرکے کہے۔ یادلالۃً  ہو، یامحض  نیت کرے نام نہ لے ۔

بیوی کی طرف صراحۃً یا دلالۃً نسبت کیے بغیر طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201973
تاریخ19-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں