بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کال سینٹر ملازمت

سوال

آج کل نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری کے باعث کال سینٹر میں ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ واضح ہو کہ کال سینٹرز میں غیر ملکی کمپنیز کے لیے کام کرتے ہیں۔ کال کا جواب انگریزی زبان میں دینا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنا کوئی فرضی نام بتانا پڑتا ہے۔ مثلاً جانسن ، رچرڈ۔ وغیرہ ۔ غرض یہ کہ پورا انگریز بن کر بات کرنی ہوتی ہے۔

جواب

کسی کو دھوکا دینا حرام ہے ،  رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

"من غشنا فلیس منا" . ( صحیح مسلم ،حدیث نمبر۱۴۶ ) 

ترجمہ:"جو شخص دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں"۔

لہذا کال سینٹر میں اپنے آپ کو انگریز ظاہر کرنا یا اپنا غلط نام بتانا ہرگزجائز  نہیں اورایسی ملازمت بھی جائز نہیں جو جھوٹ ،غلط بیانی اور دھوکا دہی کے بغیر ممکن نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201965
تاریخ18-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں