بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں نابالغ بچے کو شریک کرنے کے بعد اس کی جگہ کسی اور کو شریک کرنا

سوال

ایک جانور میں چارمرداورتین نابالغ بچے شریک تھے، اب ایک بچے کی جگہ ایک مرد کو شریک کیاجاتاہے، اس کاکیاحکم ہے؟

جواب

بچے شرعی احکام کے مکلف نہیں ہیں ، ان کی طرف سے قربانی میں جو حصہ ڈالا جاتا ہے وہ محض نفلی قربانی کا ہوتا ہے، اور اس کا ثواب ان کے والدین کو ملتا ہے، لہذا اگر  قربانی کے جانور میں بچے کو شریک کرلیا اور اب قربانی سے پہلے اس بچے کی جگہ کسی بالغ مرد کو شریک کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201938
تاریخ17-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں