بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کی وجہ سے قربانی کے وجوب کا حکم

سوال

 جب ایک بندے کے پاس استعمال کے لیےگاڑی ہے، جس کی قیمت 4  لاکھ ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی نقدی رقم نہیں،  صرف ماہانہ تنخواہ ہے،  جو بیس ہزا ماہانہ ملتا ہے، کیا اس بندے پر قربانی واجب ہے یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کے پاس استعمال کی گاڑی کے علاوہ ضرورت سے زائد اتنا سامان، زیور یا رقم موجود نہیں ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس شخص پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

البتہ اگر ضرورت سے زائد اتنا سامان یا زیور وغیرہ  قربانی کے دنوں میں موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوتو قربانی واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201934
تاریخ17-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں