بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور پرعائد ٹیکس سے بچنا

سوال

 آج کل جو منڈیوں کے اندر جانور پر ٹیکس لیا جاتا ہے، کیا یہ جائز ہے ؟ اگر کوئی منڈی کے اندر سودا کرے، اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بائع سے کہے کہ جانور میرے گھر پہنچا دینا یہ کیسا ہے؟ اس کی وجہ سے قربانی پر کوئی فرق آتا ہے ؟ 

جواب

1۔اگر ٹیکس  بقدرِ ضرورت ہی لگایا جائےاور لوگوں کے لیے قابلِ برداشت بھی ہو، نیزوصولی کا طریقہ مناسب ہو اوروصول کردہ  ٹیکس کی رقم کو ملک و ملت کی واقعی ضرورتوں اور مصلحتوں پر صرف کیاجائے توایسے ٹیکس کی اجازت ہے۔ اور اگر ٹیکس وصولی میں ان شرائط کا لحاظ نہ کیا جاتا ہو تو ایسا ٹیکس  لینا جائز نہیں، اور ایسا ٹیکس لینے والوں کے متعلق احادیث میں وعید آئی ہے۔

2۔ اگر خریدار بائع سے یہ طے کرلے کہ وہ مشتری کے گھر پر مبیع پہنچائے گا اور سودے کی قیمت باہم اتفاق سے مقرر ہو تو مبیع پہنچانے کے اخراجات بائع کے ذمے ہوں گے، اس میں ٹیکس دینے یا نہ دینے کی ذمہ داری بائع کی ہوگی، مشتری کا اس میں عمل دخل نہیں ہوگا۔ لہٰذا بائع خریدار کے گھر تک مبیع پہنچادے تو اس کی قربانی صحیح ہوجائے گی، اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا۔

باقی ٹیکس اگر ضرورت کے بقدر ہو اور حکومتی کارندے وصول کررہے ہوں تو وہ ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201880
تاریخ14-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں