بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زا ئد بال کاٹنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے میں: جسم کے کون سے زائد بال کاٹنے چاہیں اور کون سے نہیں؟ اور اس کی حدود کیا ہیں ؟

جواب

جسم کے زائد بالوں سے مراد  زیرِ ناف بال اور بغل کے بال ہوتے ہیں، انہیں صاف کرنے کا حکم ہے۔  زیرِ ناف کی صفائی کی حد مثانہ سے نیچے پیڑو کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے ، اس لیے پیڑو  کی ہڈی کے شروع سے لے کر مخصوص اعضاء ، ان کے ارد گرد اور ان کے برابر رانوں کے جوڑ تک اور پاخانے کی جگہ اور اس کے ارد گردکے بال صاف کرنا واجب ہے۔

اس کے علاوہ مرد کے لیے داڑھی کے بال ایک مشت سے زائد ہوجائیں تو ان کا کاٹنا بھی جائز ہے۔ یا چہرے پر (گال پر) بال اگ آئیں تو ان کا  کاٹنا بھی جائز ہے۔

خواتین کے چہرے پر اگر بال اگ آئیں تو ان کا کاٹنا مستحب ہے۔

اس کے علاوہ ہاتھوں اور پیروں ،سینے کے بال کاٹنا مردوں کے لیے بہتر نہیں ہے، عورتوں کے لیے جائز ہے۔

"" إذا نبت للمرأة لحیة فیستحب لها حلقها ، ذکره الطیبي "". ("مرقاة المفاتیح " ، ۸/۲۷۴ ، کتاب اللباس ، باب الترجل)
"" یری جمهور العلماء أنه لو نبت للمرأة لحیة وشارب أو عنفقة کان لها إزالتها بالحلق"". (الموسوعة الفقهية ــ۱۸/۱۰۰ ، حلق)
""إزالة الشعر من الوجه حرام ، إلا إذا نبت للمرأة لحیة أو شوارب فلا تحرم إزالته، بل تستحب""۔ (۹/۴۵۵ ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في النظر والمسّ)
وفي ’’ مرقاة المفاتیح ‘‘ : (المتنمّصات) ... هي التي تطلب إزالة الشعر من الوجه بالمنماص أي المنقاش ، والتي تفعله نامصة. قال النووي : وهو حرام إلا إذا نبت للمرأة لحیة أو شوارب"" ۔ (۸/۲۸۰ ، کتاب اللباس والترجل)

وفيه: ""ولابأس بأخذ الحاجبین وشعر وجهه مالم یشبه المخنث"". (مرقاة المفاتیح ،کتاب الأدب ،باب الترجل ،الفصل الأول :۸؍۲۸۹۔ط: امدادیة ملتان) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201867
تاریخ13-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں