بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رہائشی مکان کے علاوہ دو مکان کرائے پر ہوں تو قربانی واجب ہے

سوال

 کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا ذاتی گھر ہواور اس کے علاوہ دو عدد گھر اس سے علیحدہ ہوں (ان دو گھروں کی مالیت ٹوٹل 30 لاکھ ہو) جو اس نے کرائے پر دیے ہوں اور اس کا کرایہ آتا ہو لیکن اس کا گزر بسر انتہائی مشکلوں سے ہو, ذریعہ آمدن صرف اتنا ہو کہ بمشکل گزارا ہوجاتا ہو تو آیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہے?

جواب

جس شخص کے پاس بنیادی ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا  مذکورہ شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ،اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201856
تاریخ13-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں