رہائشی مکان کے علاوہ دو مکان کرائے پر ہوں تو قربانی واجب ہے
سوال
کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا ذاتی گھر ہواور اس کے علاوہ دو عدد گھر اس سے علیحدہ ہوں (ان دو گھروں کی مالیت ٹوٹل 30 لاکھ ہو) جو اس نے کرائے پر دیے ہوں اور اس کا کرایہ آتا ہو لیکن اس کا گزر بسر انتہائی مشکلوں سے ہو, ذریعہ آمدن صرف اتنا ہو کہ بمشکل گزارا ہوجاتا ہو تو آیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہے?
جواب
جس شخص کے پاس بنیادی ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ شخص قربانی کے حق میں صاحبِ نصاب ہے ،اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

