بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وحی کی تعریف اور اس کی قسمیں

سوال

وحی کی تعریف کیا ہے؟

جواب

 وحی کی لغوی تعریف: 'الْإِعْلَام فِي خَفَاء'۔ (پوشیدہ بات کی خبر دینا)۔

 اصطلاحی تعریف:  'هُوَ كَلَام الله الْمنزل على نَبِي من أنبيائه وَالرَّسُول'۔ 

یعنی انبیاءِ کرام پر نازل ہو نے والے اللہ کے کلام کو وحی کہتے ہیں ۔

پھر وحی کی دو قسمیں ہیں :

(1) وحی متلو ،  (2)  وحی غیر متلو ۔

وحی متلو: ایسی وحی ہے جس کے الفاظ و معانی دونوں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہوں ۔ 
وحی غیر متلو: ایسی وحی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر صرف معانی و مضامین کی شکل میں القا کی گئی ہو ۔اوران معانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے سامنے کبھی اپنے الفاظ سے اور کبھی اپنے افعال سے اور کبھی دونوں سے بیان فرمایا ہو۔ (مستفاد: امداد الاحکام ۱؍۵۴)

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (1/ 14)
' والوحي في الأصل: الإعلام في خفاء۔ قال الجوهري: الوحي: الكتاب، وجمعه وحي، مثل حلي وحلي ... وفي اصطلاح الشريعة: هو كلام الله المنزل على نبي من أنبيائه والرسول.'
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201843
تاریخ12-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں