بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر کسی نیت کے غیر مناسب جملہ زبان سے نکلنا

سوال

میں درجہ خامسہ کا طالب علم تھا، قرآن کی تفسیر پڑھ رہاتھا، ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ درختوں کی شاخیں آسمانوں سے ٹکراتی ہوں گی تو میرے ذہن میں کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ اچانک میں نے کہاکہ ایساکیسے ہوسکتاہے؟ تو میں نے اس جملہ پربہت افسوس کیااور دوبارہ کلمہ پڑھا۔  پوچھنایہ تھا کہ اس وقت میں شادی شدہ تھا، کیااس جملہ سے نکاح پر کوئی اثرپڑتاہے؟

اگر نکاح پرکوئی اثرپڑاہوتو اس بات کو عرصہ چارسال ہوچکے ہیں، اب کیاکروں میں؟ میں بہت پریشان ہو ں اس مسئلہ کو لے کر۔ براہِ مہربانی مجھے مستفید فرمائیں !

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد چونکہ  آپ کلمہ پڑھ چکے؛ لہذا اب تجدیدِ نکاح  کرلیں اور اس دوران جو کچھ ہوا اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ سوچ سمجھ کرزبان سے الفاظ نکالنے کا اہتمام کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201841
تاریخ12-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں