بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے جانور کو ذبح کرنے والے کے لیے بال اور ناخن کاٹنے کا حکم

سوال

میرے والد صاحب قربانی کرتے ہیں، اور جانور کو ذبح وغیرہ ہر سال میں ہی کرتا ہوں، کیا میرے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن کاٹنا جائز ہے؟ یا قربانی کے بعد کاٹنے چاہییں؟

جواب

جس آدمی پر قربانی واجب ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ، (یہ حکم واجب نہیں ہے)۔  آپ پر اگر قربانی واجب نہیں ہے آپ صرف والد صاحب کا جانور ذبح کرتے ہیں تو آپ کے لیے یہ عمل مستحب نہیں ہے، آپ اپنے بال ناخن وغیر کاٹ سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201820
تاریخ11-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں