بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کی آمدنی حرام ہے اس کے ساتھ کاروبای شراکت کرنا

سوال

ایک شخص جس کی آمدنی حرام ہے اس کے ساتھ کاروبای شراکت جائزہے؟ جب کہ کاروبار جائز اور حلال ہو!

جواب

جس کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہے، اس کے ساتھ کاروبای شراکت جائز نہیں ہے ؛ اس لیے کہ اس مٰیں جو نفع ہوگا اس میں بھی  اس حرمت کا اثر آئے گا،اگر چہ کاروبار حلال ہو۔

البتہ اگر لاعلمی میں ایسی کوئی شراکت قائم کرلی ہو  تو جس کی آمدنی حرام ہے اے چاہیے کہ جتنی رقم حرام ملائی ہے اس کے بقدر اپنے پاس سے صدقہ کردے تو یہ کاروبار اور اس کی آمدنی حلال ہو گی۔  یا اگر حرام آمدنی والے شخص کے پاس حلال رقم موجود ہو اور وہ اس سے کاروبار میں شراکت کرے تو شراکت اور اس کا نفع جائز ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201805
تاریخ10-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں