بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نو مولود کے  کان میں اذان کاطریقہ

سوال

نو مولود کے کس کان میں اذان اور کسی کان میں اقامت دی جاتی ہے؟

جواب

جب بچہ پیدا ہو تو نہلانے کے بعد اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر اور قبلہ رخ ہو کر بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔

'' رافع رضي اللّٰه عنه قال: رأیت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم أذن في أذن الحسن بن عليٍّ حین ولدته فاطمه بالصلاة''۔ (سنن أبي داؤد،حدیث: ۵۱۰۵، جامع الترمذي، حدیث: ۱۵۱۴)

''قال ملا علي القاري: والمعنی أذّن بمثل أذان الصلاة، وهذا یدل علی سنّیة الأذان في أذن المولود. وفي شرح السنة: روي: أن عمر بن عبد العزیز رضی اللّٰه عنه کان یؤذن في الیمنیٰ ویقیم في الیسریٰ إذا ولد الصبي الخ''۔ (مرقاة المفاتیح ۸؍۸۱)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201802
تاریخ09-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں