بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں حرام آمدنی والے کا حکم

سوال

اجتماعی قربانی کے کام میں نہیں معلوم ہوتا کہ  کس کی آمدنی حلال ہے یا حرام ، تو کیا اس میں جو ہم حصہ ڈالتے ہیں تو قربانی ہوجاتی ہے؟

جواب

اس بارے میں مسلمانوں کو حکم یہ ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں  نیک گمان رکھا جائے کہ اس کی آمدنی حلال ہی ہے ؛ اس لیے کہ عام طور پر مسلمان حرام نہیں کماتا۔ لہٰذا جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ کسی کا حصہ دار حرام آمدن والا ہے، اجتماعی قربانی جائز ہوگی۔  البتہ اگر قرائن  سے کسی  کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے  کہ اس کی کل یا اکثر آمدنی  حرام ہے  تو  پھر اسے قربانی  کے جانور میں  شریک نہ کیاجائے۔ اس کے لیے اجتماعی قربانی والوں کو لکھ کر لگا دینا چاہیے کہ حرام آمدنی والے احباب زحمت نہ فرمائیں۔

'' تکملة فتح الملهم'' (۳۶۰/۵):

" إن کان لا یتعدی ضرره إلی غیره فلا حاجة للمحتسب أن یتجسس في أمره … أما إذا تعدی ضرره إلی أحد غیره أو إلی المجتمع بصفة عامة، فإنه یجوز للمحتسب أو لموظف آخر منصوب من قبل الحکومة لهذا الغرض أن یهجم علیه وعلی ذلک یحمل قول أبي یوسف رحمه الله، ویحتمل أن یوفق بذلک فیما بین الوقائع المختلفة لسیدنا عمر رضی الله عنه، فالتجسس الممنوع هوما کان لمجرد الاطلاع علی عورات الناس وهتک سترهم لإخزاء هم، أما ما کان لغرض اجتماعي مقبول مثل ما ذکرنا فلیس من التجسس المحظور". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201799
تاریخ09-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں