بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیدی پر قربانی کا حکم/ جمعے کے دن قیدیوں کا ظہر کی جماعت کرنا

سوال

میرا کزن جیل میں ہے اور اس کی ملکیت میں اسی ہزار روپے ہیں کیا ان پر قربانی واجب ہے؟ اگر ہے تو کس طرح کرے؟

قیدیوں پر جمعہ کی نماز نہیں ہے تو کیا جمعہ کے روز  دو چار قیدی مل کر ظہر کی نماز جماعت سے ادا کر سکتے ہیں؟

جواب

 اگرکوئی قیدی مقیم ہو اور وہ صاحبِ نصاب بھی ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی، اب چاہے تو قید خانہ میں ہی وہ قربانی کرلے یا کسی سے کہہ کر قربانی کروالے۔

الدر مع رد المحتار میں ہے:

''و شرائطها: الإسلام و الإقامة و اليسار، (و اليسار بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها...''الخ (كتاب الأضحية ٦/ ٣١٢، ط: سعيد)

جمعہ کے روز قیدی اگر جماعت سے ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201770
تاریخ08-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں