بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ کی قبر پر حاجیانی لکھوانا

سوال

ایک عورت نے عمرہ اور حج دونوں ادا کیے, اب اس کی فوتگی ہو چکی ہے, کیا اس کے قبر پر اس کے نام کے آگے حاجیانی یا حاجی لکھنا جائز ہے?

جواب

حج ایک فریضہ ہے جو اللہ تعالی کی رضا کے لیے ادا کیا جاتاہے نہ کہ القابات کے حصول کے لیے ، اس لیے یہ ظاہر کرنے کے لیےکہ مرحومہ نے حج کیا تھا اس کے نام کے ساتھ حاجیانی لکھنا مناسب نہیں۔ بوقتِ ضرورت نشانی کے لیے قبر پر کتبہ لگانے کی فقہاءِ کرام نے اجازت دی ہے، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ کتبہ پر مبالغہ آمیز القاب سے اجتناب کیا جائے، لہٰذا نشانی کے لیےاگر کتبہ ضروری ہو تو "زوجہ فلاں" یا "بنت فلاں"  کرکے لکھ دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201754
تاریخ07-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں