بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیمار آدمی عید کی نماز پڑھنے کے لیے نہ جاسکے تو اس کا حکم

سوال

بیمار آدمی عید کی نماز پڑھنے کے لیے نہ جاسکے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی اس قدر بیمار ہے  یا معذور ہےکہ عیدگاہ تک نہیں جاسکتا یا نابینا وغیرہ ہے اور کوئی ساتھ لے جانے والا نہیں ہے تو اس پر عید کی نماز لازم نہیں ہے۔

'' وشرط وجوبها: الإقامة والذکورة والصحة فلا تجب علی مریض ساء مزاجه وأمکن في الأغلب علاجه، فخرج المقعد والأعمى ، ولذا عطفه علیه فلاتکرار في کلامه کما توهمه في البحر: وأما الشیخ الفاني فملحق بالمریض، واختلفوا فیما إذا وجد مایرکبه کالأعمى یجد القائد، قیل: لا تجب علیه اتفاقًا، وقیل: تجب في قولهم وهو الصحیح، کذا في القنیة: وسیأتي خلافه''۔ (النهر الفائق، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201739
تاریخ06-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں