بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلیچ کریم کے ذریعے عورت کا بھنویں بنانا

سوال

آج کل بلیچ کریم کے ذریعہ عورت اپنی بھنویں بناتی ہیں، عورتیں شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ،ان کا یہ فعل جائز ہے یا ناجائز؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کریں۔

جواب

بھنویں اگر حدِ اعتدال سے بڑھ جائیں تو  عورتوں کے لیے ان کوکٹوا کر یا بلیچ کریم کے ذریعہ معتدل کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن بھنویں پہلے سے معتدل ہوں تو انہیں باریک کرنا حرام ہے۔حاشية رد المختار على الدر المختار (6/ 373)
"( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201731
تاریخ06-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں