بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو طلاق کے بعد ساتھ رہنا

سوال

میں نے کچھ دن پہلے اپنی بیوی کو دو طلاق دیں، کیا ہم ساتھ رہ سکتے ہیں؟

جواب

بہتر تو یہ تھا کہ طلاق دیتے ہوئے جو الفاظ آپ نے بولے تھے سوال میں وہ لکھ دیتے،بہر حال اگر آپ نے صریح طلاق دی ہے اور اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تو  عدت (یعنی اگر حمل نہ ہوتو  تین ماہواریوں) کے دوران آپ رجوع کرسکتے ہیں،اور اگر رجوع کیے بغیر عدت پوری ہوگئی تو تجدیدِ نکاح کے بعد ساتھ رہ سکیں گے،لیکن ہر دو صورت آئندہ صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا، اگر کبھی بھی ایک طلاق مزید دے دی تو حلالہ شرعیہ کے بغیر ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر طلاق صریح نہیں تھی تو اس کے الفاظ لکھ کر دوبارہ سوال کرلیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201729
تاریخ06-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں