بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام کے بغیر میقات سے گزرنا

سوال

 اگر کوئی شخص حج کے لیے  نکلے،  مگر کسی عذر (مثلاً : بیماری وغیرہ) کی وجہ سے احرام باندھے بغیر جدہ پہنچ جائے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا حج پر کوئی فرق پڑے گا؟ کیا کوئی دم دینا پڑے گا؟ کیا جدہ سے احرام باندھا جاسکتا ہے؟

جواب

جو شخص حج یا عمرے کی نیت سے احرام باندھے بغیر حدودِ حرم سے گزرتے ہوئے جدہ ائیر پورٹ پر اتر جائے تو اس پر حدودِ حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی وجہ سے دم یعنی بکری وغیرہ کی قربانی لازم ہوگی، اور اب اگر وہ شخص واپس اپنے یا دوسرے میقات یا کسی بھی میقات کے محاذات میں جا کر احرام باندھ لے تو اس سے دم ساقط ہوجائے گا ؛ چوں کہ جدہ سے اپنا میقات بہت دور ہے؛ لہٰذا کسی بھی میقات پر جا کر احرام باندھ سکتا ہے، اب جدہ محاذات میقات میں ہے کہ نہیں؟ تو بعض علماء کے نزدیک جدہ محاذات میقات میں ہے ،جب کہ بعض دیگر علماء کے نزدیک جدہ محاذاتِ میقات میں نہیں ہے؛ لہٰذا اگر جدہ سے احرام باندھا تو ایک قول کے مطابق محاذی میقات ہونے کی وجہ سے دم ساقط ہوجائے گا ،جب کہ دوسرے قول کے مطابق عدمِ محاذات کی وجہ سے دم ساقط نہیں ہوگا ، اور یہی احوط معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کی بنا پر جدہ سے احرام باندھنے کی صورت میں دم دینا لازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201658
تاریخ02-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں