بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جانور میں عیب تھا

سوال

اگر کوئی آدمی قربانی کرلے اور اس کو بعد میں معلوم ہو کہ جانور میں کوئی عیب تھا تو اس قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

قربانی کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ جانور میں کوئی ایسا عیب تھا کہ جس کی وجہ سے قربانی نہیں ہوئی تو اگر قربانی کرنے والاغریب تھا، یعنی اس پر قربانی واجب نہیں تھی اور اس نے قربانی کی تھی تو اس پر کچھ  اور لازم نہیں ہوگا، اور اگر قربانی کرنے والا صاحبِ نصاب یعنی مال دار  تھا تو اب اس  پر ایک متوسط بکرے یا بھیڑ کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوگی۔

الفتاوى الهندية (5/ 296)
''وإن كان من لم يضح غنياً ولم يوجب على نفسه شاة بعينها تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتر. كذا في العتابية''.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201652
تاریخ02-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں