بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے وجوب میں مہر موجل شوہر کے مال سے منہا نہیں ہوگا

سوال

اگر مہرموجل ہو تو قربانی کے لیے کیا نصاب سے نکال دیاجائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مہر معجل ہو یا مؤجل عند الطلب ہو  یا محض مؤجل ہو اور شوہر اس کی ادائیگی کے لیے رقم جمع کرنے کی جستجوکر رہا ہو تو ان صورتوں میں مالی عبادات (زکاۃ، قربانی اور صدقہ فطر) کے واجب ہونے نہ ہونے کا فیصلہ اس مہر کے منہا کرنے کے بعد ہوگا ۔ البتہ اگر مہر مؤجل ہو  اور نہ  بیوی کی طرف سے  ادائیگی کا مطالبہ ہو اور نہ ہی شوہر ادا کرنے کی جستجو میں ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ مہر منہا نہیں کیا جائے گا، پس صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بالا تفصیل کو سامنے رکھ کر شوہر اپنے بارے میں فیصلہ کرلے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201637
تاریخ01-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں