بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور فروخت کرنا

سوال

ایک آدمی نے قربانی کےلیے بکرا متعین کیاہواتھا، اب اس آدمی نے وہ بکرا فروخت کردیا ہے، اور اس سےکم قیمت میں گائے میں حصہ ڈال دیا ہے توآیا اس کا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو پیسے بچ گئے ہیں ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کے جانور کو متعین کرنے کے بعد اگر اسے فروخت کردیاہے اورحاصل شدہ رقم سے کم رقم قربانی کے جانور میں بطور حصہ ڈالی ہے تو  زائد رقم صدقہ کردی جائے۔(فتاوی ہندیہ 5/302رشیدیہ)

یا اگر وہ رقم اتنی ہی کہ اس سے دوسرا حصہ لیا جاسکتاہے تو دوسرا حصہ لے لے، یا اس میں مزید رقم ملا کر دوسرا حصہ لے لے۔ بچ جانے والی رقم خود استعمال نہ کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201634
تاریخ01-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں