بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میڈیکل انشورنس کا کیا حکم ہے؟

سوال

میڈکل انشورنس کا کیا حکم ہے؟

جواب

انشورنس کامروجہ طریقہ کارشرعاً ناجائزوحرام ہے،اس لیے کہ اس میں سود اور جوا دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔جوااورسود دونوں کی حرمت قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔اس لیے میڈیکل انشورنس کرواناجائز نہیں۔البتہ اگر کوئی شخص  میڈیکل انشورنس کی مد میں رقم جمع کرواچکا ہو یاکسی کمپنی نے اپنے ملازمین کے میڈیکل انشورنس کی مد میں رقم جمع کی ہوتوان دونوں صورتوں میں صرف اسی قدرمیڈیکل کی سہولت اٹھاسکتے ہیں جس قدر انشورنس کی مدمیں رقم جمع کروائی گئی ہے۔اس سے زائد فائدہ اٹھاناجائزنہیں ہوگا۔یعنی صرف بقدررقم علاج معالجہ کراسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201623
تاریخ31-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں