احرام کی حالت میں عورت کے چہرہ کا پردہ
سوال
احرام میں پردے کا کیا حکم دیا گیا ہے؟جیسا کہ ہم اکثر دیکھتے ہیں طواف کعبہ کے دوران بہت ساری خواتین چہرہ کا پردہ نہیں کرتیں۔کیا یہ درست ہے؟
جواب
احرام کی حالت میں عورت کو چہرے پر کپڑا نہیں لگانا چاہیے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ احرام کی حالت میں عورت کے چہرے کا پردہ نہیں ہے، بلکہ عورت کے لیے جہاں تک ممکن ہو پردہ کرنا ضروری ہے، اس کے لیے آج کل بازار یا حاجی کیمپ سے کیپ (ہیڈ) ملتے ہیں، جن کے آگے نقاب لگا ہوتا ہے جس سے پردہ کے اہتمام کے ساتھ احرام کی پابندی بھی پوری ہوجاتی ہے ان کا استعمال کیا جائے۔
'' وَالْمَرْأَةُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ كَالرَّجُلِ، غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَكْشِفُ رَأْسَهَا وَتَكْشِفُ وَجْهَهَا، وَلَوْ سَدَلَتْ عَلَى وَجْهِهَا شَيْئًا وَجَافَتْهُ عَنْهُ جَازَ'' ۔ (عالمگیری ۔1/235، کتاب الحج، ط:رشیدیہ)فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

