بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا گوشت اور پیسوں کا صدقہ الگ الگ ہے؟

سوال

کہتے ہیں کہ گوشت کا صدقہ الگ ہے، اور پیسوں کا الگ ہے، اگر ہمیں صدقہ دینا ہے تو پیسوں سے ادا ہوجائے گا یا گوشت کا الگ دیاجائے؟ برائے مہربانی اس کا جواب دیں!

جواب

صدقہ اس مال کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (26/ 323)
'' يقول الراغب الأصفهاني: الصدقة: ما يخرجه الإنسان من ماله على وجه القربة''۔

صدقہ خواہ پیسوں کی صورت میں دیا جائے یا گوشت کی صورت میں، دونوں صورتوں میں صدقہ ادا ہو جاتا ہے اور دینے والا ثواب کا مستحق بن جاتا ہے، کسی خاص صورت کو اختیار کرنا یا پیسوں اور گوشت کا صدقہ الگ الگ ادا کرنا ضرور ی نہیں۔احادیث میں وارد ہے کہ صدقہ بیماریوں کو دور کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے، ملاحظہ ہو:

كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال (10/ 24)

"داووا مرضاكم بالصدقة، وحصنوا أموالكم بالزكاة ؛ فإنها تدفع عنكم الأعراض والأمراض" . الديلمي - عن ابن عمر.

معجم ابن المقرئ (ص: 76)
'' عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصدقة تدفع ميتة السوء»''۔

ان احادیث میں بھی صدقہ کی کوئی تخصیص نہیں، خواہ وہ پیسوں کا ہو یا گوشت کا، لہذا صدقہ کی کوئی بھی صورت اختیار کی جائے، صدقہ ادا ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201561
تاریخ28-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں