بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنسی کو ضائع کرنا

سوال

کرنسی یا روپے کو ضائع کرنے یا پھاڑنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

 موجودہ دور کی کرنسی نوٹ سونا چاندی کا بدل ہونے کی وجہ سے مال کا حکم رکھتے ہیں، جس طرح مال برباد کرنا، ضائع کرنا شرعاً ممنوع اور اسراف کے حکم میں ہے بالکل اسی طرح کرنسی نوٹ ضائع کرنا، پھاڑ دینا یہ اللہ کی نعمت کی ناشکری ، زوالِ نعمت کا باعث اور اسراف ہے؛ جس سے اللہ رب العزت نے واضح الفاظ میں منع فرماتے ہوئے ایسے افراد کو ناپسند قرار دیا  ہے، ارشادِ ربانی ہے:

﴿ وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ  لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ ﴾ [الأعراف:31]

ترجمہ: اور اسراف مت کرو بے شک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

دوسری جگہ فضول خرچی/اسراف  کرنے والوں کو  شیطان کا بھائی قرار دیاہے، ارشاد ہے:

﴿ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ﴾ [بني إسرائيل :27]

ترجمہ: بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

لہذا کرنسی نوٹ پھاڑنا یا ضائع کرنا ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201530
تاریخ25-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں