بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت حمل میں طلاق

سوال

اگر لڑکی حاملہ ہو اور شوہر طلاق دے دے تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟

 

جواب

اگر طلاق کے وقت عورت حاملہ ہو تو بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے البتہ حمل کی صورت میں عدت اس وقت ختم ہوگی جب بچے کی پیدائش ہوجائے گی۔ 

قال اللّٰه سبحانه وتعالیٰ : ﴿ وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﴾ [ الطلاق ، جزء آیت : ۴  ]

"" عن الحسن ومحمد قالا : إذا کانت حاملاً طلّقها متی شاء ""۔ ( المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الحامل کیف تطلق، ۹ ؍ ۵۱۳ رقم : ۱۸۰۴۵ المجلس العلمي  )

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 232)

""(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل"". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201501
تاریخ22-07-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں